27 مارچ 2026 - 01:36
ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

مغربی محاذ کے مقابلے میں عالم اسلام کی عشروں پر محیط ناکامیوں کے بعد امریکی-صہیونی مشترکہ جارحیت کے مقابلے میں ایران کا حیرت انگیز رد عمل نے مسلم اقوام کے دلوں میں امید کی شمع روش کر دی ہے۔ جنگ رمضآن نے ثابت کیا کہ ایران کی طاقت پور عالم اسلام کے لئے زبردست دفاعی چھتری بن سکتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی-صہیونی مشترکہ جارحیت کے مقابلے میں ایران کی زبردست استقامت پر دنیا بھر سے مختلف قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فلسطین کی تحریک حماس نے ایران کو "عالم اسلام کی جدیدترین دفاعی فرنٹ لائن" کا عنوان دیا ہے۔

حالیہ تاریخ میں کسی کو بھی مغرب ـ بالخصوص امریکی-صہیونی محاذ کے مقابلے میں ـ کوئی کامیابی نہیں مل پائی ہے۔ جنگ رمضان ایک عدیم المثال نمونہ ہے جو بہت سارے عالمی فارمولوں کو بدل سکتی ہے۔ ایسی جنگ جس میں امریکہ بلاواسطہ طور پر داخل ہؤا لیکن بہت ساری ناکامیوں سے دوچار ہؤا اور دوچار ہو رہا ہے۔

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

جنگ رمضان کا دوسری جنگوں سے موازنہ

رمضان کی مسلط کردہ جنگ چوتھے ہفتے کے وسط تک پہنچ گئی ہے جس میں دشمن کے سیکورٹی اداروں کے اعتراف کے مطابق ایران میں کوئی کمزوری ظاہر ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ چنانچہ بہت سے تجزیہ کاروں نے ایران کی ثابت قدمی اور کانٹے دار مقابلے کا سابقہ جنگوں سے موازنہ کیا ہے۔

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

ایک امریکی میڈیا کارکن نے اس جنگ کا 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ جنگ 21 دن جاری رہی اور امریکہ نے بغداد پر قبضہ کر لیا۔ لیکن یہاں 21 دن گذرنے کے بعد ایران نے 4500 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائل فائر کئے اور آبنائے ہرمز سے تیل گذرنے کا سلسلہ بند کر کے تیل منڈی کو مشکل سے دوچار کر دیا۔

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

سنہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ 6 دن تک اور سنہ 1973 کی چھ روزہ جنگ رمضان (یوم کیپور) 19 دن تک جاری رہی اور یہ جنگیں مشہور ترین جنگیں ہیں جو مسلم عربوں اور اسرائیل کے درمیان ہوئیں اور دونوں جنگوں میں تمام عرب ممالک کو شکست ہوئی۔

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

ان کے مقابلے میں موجودہ مسلطہ کردہ جنگ چوتھے ہفتے میں پہنچ گئی ہے اور دشمن کے انٹیلی جنس ادارے اعتراف کرتے ہیں کہ ایران میں استقامت اور پامردی زوروں پر ہے اور کوئی کمزوری نظر نہیں آ رہی ہے۔

صہیونی ریاست کے ملٹری انٹیلی جنس کے سابق افسر ڈینی سیٹرینووچ نے کہا ہے: "ایران دس لاکھ سال تک بھی سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔"

ایران گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں بنیادی رکاوٹ

گریٹر اسرائیل کا منصوبہ، جو غزہ پر صہیونی ریاست کی جارحیت کے بعد کئی بار صہیونی اہلکاروں کی زبانی پیش کیا گیا، عالمی استکبار کے سب سے بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے، جس کو ایران جیسی عظیم رکاوٹ کا سامنا ہے۔

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

انصار اللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی کہتے ہیں: "امریکی-صہیونی جارحیت کا اعلان کردہ ہدف مشرق وسطی کی تبدیلی اور اسلامی جمہوریہ کو ـ ایک اسلامی قوت اور عالم اسلامی کے بڑے حامی کے طور پر ـ حذف کرنا ہے۔ ایران گریٹر اسرائیل کی تشکیل میں عظیم ترین رکاوٹ ہے۔"

حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ آج جنگ رمضان میں ہو رہا ہے، یہ جنگ ـ امریکہ اور اسرائیل کے حرص و لالچ کے مقابلے میں ـ عالم اسلام اور محور مقاومت کے لئے ایک مضبوط دفاعی بند کی تعمیر ہے۔

موجودہ حقائق سبب بنے ہیں کہ ایران آج کسی بھی گذشتہ زمانے کے مقابلے میں، مسلمانوں کے درمیان ہردلعزیز ملک بن گیا ہے۔ ٹیلی گراف نے حال ہی اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے مسلمانوں کے درمیان ایران کی مقبولیت امریکہ سے پانچ گنا زیادہ ہو گئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگِ رمضان نے ایران کو اپنی سرحدوں سے دور کے علاقوں میں عالم اسلام ـ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دنیا بھر میں ـ برتر قوت کے طور پر ابھار دیا ہے۔

عالم عرب کے مشہور و معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے: "ایران اس جنگ کے بعد ایک عظیم طاقت بن جائے گا، نہ صرف علاقائی طاقت، بلکہ ایک عالمی طاقت ہوگا۔"

ایران کی فوجی طاقت عالم اسلام کی جدیدترین فرنٹ لائن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجریر: علی رضا محمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha